ہم کس گلی جا رہے ہیں؟

ایک وقت تھا کہ جب ہم اپنے بڑے بوڑھوں سے کراچی میں ہونے واقعات کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ یہاں کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات کو  اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور کڑے وقتوں کو برداشت کیا ہے کہ جن کا آج کی نسل تصور بھی نہیں کرسکتی۔ ان میں فرقہ وارانہ و لسانی فسادات کے دوران کھمبے بجنے اور گدھے جلائے جانے تک سبھی کچھ شامل ہے۔ گو کہ ہمیں اس طرح کی 'تاریخی داستانیں' سنانے والی آنکھیں کراچی کے اچھے حالات دیکھنے کی آس لیے تاریک ہوچکیں لیکن اس شہر میں آج بھی ویسا ہی ماحول، ویسی ہی بو، ویسا ہی ڈر اور ویسا ہی خوف محسوس ہوتا کہ جو اندوہناک واقعات سنتے ہوئے ہوتی تھی۔ بس فرق پڑا ہے تو صرف اتنا کہ پہلے جائز و ناجائز اور اچھے و برے کی تمیز تھی لیکن اب شاید وہ بھی ناپید ہوچکی ہے۔

زیادہ وقت نہیں گزرا کہ جب 12 مئی 2007ء کو کراچی نے حکومتی سرپرستی میں پلے پوئے گِدھوں کو نہتے انسانوں کا شکار کرتے دیکھا۔ روشنیوں کے شہر کے لیے یہ دن کس قدر "تاریکی" حیثیت رکھتا ہے اس کا اندازہ ہر سال 12 مئی کو مقتولین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قاتلوں کی دہائیں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو اس روز غم کربلاء کا سا ماحول پیدا کرتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد مجرموں کو پکڑنا تو درکنار ذمہ اداروں سے یہ تک نہیں پوچھا گیا کہ وہ اس روز تماش بین کیوں بنے رہے؟ بہرحال! جب قانون کے لمبے ہاتھ ظالموں کا روکنے میں ناکام رہیں تو ظالم کے ہاتھ لمبے اور قانون کے چھوٹے پڑنے لگتے ہیں۔

چونکہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری کے مجرم سرے عام گھومتے پھر رہے ہیں اس لیے مجھے کم از کم اس بات پر قطعاً حیرانی نہیں ہوگی اگر آنے والے وقتوں میں ہمیں اس طرح کے مزید واقعات دیکھنے کو ملیں۔ ازرائے تشفی جملے کے آخر میں خدانخواستہ لکھنا چاہتا ہوں لیکن حالیہ مہاجر صوبہ کی بازگشت کسی نئے فساد کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔

صوبے کی تحریک کو عوامی بنانے کے لیے مہاجر صوبہ لبریشن آرمی نے کراچی میں وال چاکنگ، پوسٹرز، اور لٹریچرز تقسیم کیئے گئے وہ تو اپنی جگہ لیکن جس قسم کے خطوط سندھ کے اراکین اسمبلی کو بھیجے گئے اس سے اس تحریک کے پیچھے چھپی سازشی سوچ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں مہاجر صوبے کے لیے کی جانے والی اس پمفلٹی دہشت گردی کا جواب حسب توقع دھمکی آمیز اور غیر اخلاقی الفاظوں کا مجموعہ چھاپ کر دیا گیا ہے جسے آپ کراچی کی دیواروں پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

مذہبی شدت پسندی پر اٹھنے والی آوازیں اور انگلیاں نہ جانے اس غیر مذہبی / لسانی شدت پسندی پر کیوں خاموش اور فالج زدہ ہوجاتی ہیں کہ جو ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے اس شہر کا امن تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ صوبہ بنانے یا اس کے خلاف تحریک چلانے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے اور ہونا بھی چاہیے، لیکن ہر قسم کے دنیاوی و اخلاقی قوانین سے ماوراء موجودہ شدت پسند تحاریک ہمیں ایک بند گلی کی جانب دھکیلنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی کہ جس کے آخر میں بربادی ہی اس شہر کا مقدر بنے گی۔

 

مہاجر صوبہ لبریشن آرمی کی جانب سے اراکین سندھ اسمبلی کو لکھا جانے والا خط

 

مہاجر صوبے کے خلاف منظر عام پر آنے والا پمفلٹ

 حالات و واقعات, سیاست

جوابِ ٹیگ

سال 2009ء میں بلاگنگ کے آغاز سے پہلے میں کافی عرصے تک مختلف اردو بلاگز کا خاموش قاری رہا۔ اس دوران بلاگز کے درمیان ٹیگنگ کا بڑا دلچسپ سلسلہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں میری دلچسپی کی بڑی وجہ کئی نئے  بلاگز کا پتہ چلنا تھا۔ بعد میں اردو بلاگستان کا حصہ بنا تو محسوس ہوا کہ ٹیگنگ کا یہ سلسلہ دم توڑ چکا ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ بلاگرز کے درمیان نظریاتی اختلافات میں شدت، نامعلوم تبصروں میں اضافہ، ملک کے بدلتے سیاسی حالات یا پھر کچھ اور ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے کئی سوئے ہوئے بلاگرز کو جگایا اور کچھ کو لکھنے پر دوبارہ بھی اکسایا جاسکتا ہے۔

بہرحال، سال 2012ء کے ساتھ عمار ابن ضیاء نے ٹیگ کا نیا سلسلہ شروع کیا تو اس میں مجھے بھی ٹیگ کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح پوچھے گئے سوال تو قطعاً مشکل نہیں معلوم ہوئے البتہ ان کے جوابات دینا کچھ مشکل لگ رہا ہے۔

1۔ 2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
ج۔ کسی اچھی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ بیرون ملک موقع ملا تو یہ نیا بھی ہوگا اور خاص بھی۔

2۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
ج۔ 21 دسمبر 2012ء کو ہونے والے ڈومز ڈے کا انتظار ہے۔ ;)

3۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
ج۔ بالآخر گریجویشن کرنے میں کامیاب ہوا۔ :)

4۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
ج۔ خدا کا شکر ہے، پچھلے سال ایسی کوئی ناکامی نہیں ہوئی جو یاد ہو۔

5۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
ج۔ گزشتہ سال پہلی بار کسی سوشل میڈیا ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا جو میرے لیے کافی دلچسپ اور یادگار بھی ثابت ہوا۔

6۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
ج۔ کچھ منصوبے وقت پر مکمل نہ کرپانے کے باعث نئے سال کی آمد کچھ 'جلدی' محسوس ہوئی۔ آخری روز بھی یہی خواہش رہی کہ کاش دسمبر 41 دن کا ہوتا۔

7۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
ج۔ موٹر سائیکل، گاڑی اور وقت ملا تو جہاز اڑانا بھی سیکھنا چاہوں گا۔

اب میں ٹیگ کے اس سلسلے میں عمر بنگش، منیر عباسی، یاسر عمران اور وقار اعظم کو شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہوں۔ ارادہ تو ایک آدھ سوال اپنی مرضی کا بھی شامل کرنے کا تھا لیکن چونکہ میرا بھی لکی نمبر سات ہے، اس لیے اس سوالنامہ کو ویسا ہی رہنے دیا۔ :)

 متفرق

تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (3)

(گزشتہ سے پیوستہ)

ورکشاپ کا دوسرا روز بڑا اہم اور دلچسپ تھا کیوں اس دن پینل ڈسکشن میں ایکسپریس ٹریبیون کے مدیران جہانزیب حق اور فاریہ سید کے ساتھ ساتھ ڈان ڈاٹ کام کی سمیرا ججہ نے بھی حصہ لیا۔ ان کے علاوہ سوشل میڈیا کی دو معروف شخصیات عواب علوی اور فیصل کپاڈیا کو بھی شریک محفل ہونا تھا تاہم وہ اندرون سندھ متاثرین سیلاب کے لیے امدادی کاموں میں مصروفیت کے باعث شرکت نہ کرسکے۔

مہمانوں سے شرکاء اور شرکاء سے مہمانوں کے مختصر تعارف کے بعد گفتگو کا سلسلہ جہانزیب حق سے شروع ہوا جنہوں نے روایتی انداز میں پہلے اپنے اخبار کی خوبیاں بیان کیں اور پھر انٹرنیٹ پر ایکسپریس ٹریبیون کو دیگر اخبارات پر قارئین کے اعتبار سے حاصل سبقت کا ذکر کیا۔ ورکشاپ کے موضوع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاگ ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی بھی صحافی یا دیگر پیشے سے وابستہ افراد کو ذاتی مواد رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ بلاگ کی مثال پیش کرتے ہوئے جہانزیب حق نے کیفے پیالا اور پاک میڈیا کا بطور معروف پاکستانی بلاگز حوالہ بھی دیا۔

جہانزیب حق نے بلاگ کو انفرادی حیثیت قائم کرنے اور کیرئیر کے فروغ یعنی پیشے میں ترقی حاصل کرنے کا بھی اہم ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے بلاگز کے بارے میں بھی بتایا جن کے مصنفین خود کا ظاہر کیے بغیر لکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کافی مشہور ہوچکے ہیں۔ جہانزیب حق نے بلاگ کے ایک اہم پہلو کا ذکر کرتے ہوئے مثال دی کہ اگر ایک فوٹوگرافر کسی واقعہ یا جگہ کی دسیوں تصاویر لیتا ہے تو بھی اس کا اخبار زیادہ سے زیادہ ایک یا دو تصویر ہی لگائے گا اور اگر ٹی وی چینل ہے تو وہ بھی مخصوص وقت تک کا سلائیڈ شو لگائیں گے لیکن چونکہ بلاگز میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں، اس لیے آپ جتنی چاہیں اور جیسے چاہیں تصاویر باآسانی شائع کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون ہی سے تعلق رکھنے والی فاریہ سید نے بھی بلاگ کی افادیت پر روشنی ڈالی اور ذرائع ابلاغ اورآن لائن میڈیا کے فرق کو بہت اچھے طریقے سے واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز اور دیگر الیکٹرانک میڈیا میں آپ کو مخصوص ٹائم جبکہ پرنٹ میڈیا میں مخصوص جگہ تک محدود رہنا ہوتا ہے جس سے اکثر اوقات خبر یا فیچر کی افادیت ختم بھی ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس ویب پر آپ کو نہ صرف وقت اور جگہ کی آزادی دیتا ہے بلکہ بذریعہ قلم، آواز اور تصویر کے بیک وقت تمام تر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ فاریہ نے ایک دلچسپ بات یہ کہی کہ عام طور پر اچھی خبر وہ سمجھی جاتی ہے جو عالمی سطح پر دلچسپی کی حامل جبکہ بلاگ میں زیادہ دلچسپی کا حامل وہ مواد ہوتا ہے جو مکمل تحقیق اور تصدیق کے بعد زمینی حقائق کو بیان کرے۔ مثلاً اگر ہم بلوچستان کی بات کریں تو اس موضوع پر جتنا اچھا بلاگ بلوچستان میں رہنے والا چلا سکتا ہے، اتنا کراچی، کسی اور شہر یا ملک کے بلاگر کے لیے ممکن نہیں ہے۔

فاریہ سید کی اس بات پر میں نے سوال کیا کہ اگر بلاگز کی دلچسپی کا معیار یہی ہے کہ اپنا مدعہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے درست انداز میں بیان کیا جائے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ لکھنے والا ایسی زبان میں بلاگنگ کرے کہ جس سے وہ اور اس کا مخاطب مکمل واقف ہو ناکہ ایسی زبان میں کہ جو اس کے لیے اجنبی ہو۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ گھریلو مسائل پر گھر کی خواتین اور کاروباری مسائل پر مرد حضرات یا کسی اور ملکی سیاسی و غیر سیاسی صورتحال پر اپنی مادری زبان میں زیادہ بہتر انداز سے تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے نا کہ انگریزی میں۔ فاریہ سید نے میرے نکتہ کی تائید کرتے اردو بلاگرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا جس کی جہانزیب حق نے بھی تائید کی۔

یہاں جہانزیب حق کی جانب سے اردو لکھنے میں مشکلات، فانٹس اور کی بورڈ کا ذکر ہوا تو میں نے پھر پاک اردو انسٹالر کا حوالہ دیا۔ یہ بات بڑی ہی عجیب محسوس ہوئی کہ خود کو سیکنڈوں کے اعتبار سے اپڈیٹ رکھنے والے لوگ اب بھی 'اردو' لکھنے اور پڑھنے کو مشکل خیال کرتے ہیں۔ بہرحال! جب مہمان کچھ مطمئن نظر آئے تو میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے جہانزیب حق سے انگریزی ایکسپریس ٹریبیون کی طرح اردو روزنامہ ایکسپریس میں بھی ایک مخصوص حصہ بلاگز کے لیے وقف کرنے کی فرمائش کر دی جس پر جہانزیب نے کہا کہ آپ آئندہ چھ ماہ میں اس سے متعلق کافی پیش رفت دیکھ سکیں گے۔

ڈان ڈاٹ کام کی مدیر سمیرا ججہ بلاگنگ اور آن لائن ذرائع ابلاغ کے بارے میں بہت سرگرم نظر آئیں۔ انہوں نے صحافیوں کو عام اخبار سے زیادہ آن لائن مضامین شائع کروانے کو ترجیح دینے کا کہا۔ سمیرا ججہ نے کہا کہ آن لائن پڑھنے، سننے اور دیکھنے والے کا فوری ردعمل حاصل کیا جاسکتا ہے جس سے مستقبل میں کام کرنے کے لیے نئے اور بہتر طریقے بھی سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر ادارے کو چاہیے کہ وہ آن لائن موجودگی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے وہاں موجود کئی صحافیوں سے بھی اخبار اور آن لائن کی افادیت پر بات چیت کی اور انہیں اپنی ویب سائٹ کے لیے بلاگنگ کرنے پر اصرار کیا۔

گفتگو کے دوران جہانزیب حق نے بتایا کہ عام طور پر بھی اگر ایکسپریس ٹریبیون 50 ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے تو اس کی ویب سائٹ پر 70 ہزار وزٹ ہوتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ اخبار یا ٹی وی سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ اور آن لائن خبروں کے حصول میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت والے روز ایکسپریس ٹریبیون پر کئی گنا زیادہ لوگوں نے وزٹ کیا جو ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ کی تعداد بنتی ہے۔ کچھ یہی صورتحال ڈان اخبار کے ساتھ بھی رہی جسے اس روز عام دنوں سے 35 فیصد زیادہ حاضرین کی طرف سے دیکھا گیا۔

(جاری ہے)

 متفرق

تین روزہ سوشل میڈیا ورکشاپ کا احوال (2)

(گزشتہ سے پیوستہ)

اگلی صبح تقریباً آٹھ بجے کیفے میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر ورکشاپ ہال کی راہ لی۔ چند لوگ پہلے ہی وہاں موجود تھے اور کچھ بعد میں وہاں پہنچے جن میں نئے چہرے بھی نظر آئے۔ منظور علی اور اشرف الدین کی جوڑی، جن سے ہم گزشتہ رات ملاقات کر چکے تھے، 9 بجے کے بعد پہنچی۔ وجہ معلوم کی تو اشرف الدین نے بتایا کہ منظور علی کو کل رات بخار ہوگیا تھا۔ یہ بات تو بعد میں پتہ چلی کہ خود منظور علی کو اس کا علم نہیں تھا کہ انہیں کب بخار ہوا اور کب خودبخود اتر بھی گیا۔

بہرحال، ورکشاپ کے منتظم لالا حسن (پی پی ایف) نے باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اپنا اور پی پی ایف کا مختصر تعارف کروایا۔ یوں ورکشاپ کی شروعات تو ہوگئی لیکن شرکاء کے تفصیلی تعارف کا اہم مرحلہ ابھی باقی تھا۔ اس کام کے لیے ہماری انسٹرکٹر سندس رشید نے بڑا دلچسپ طریقہ اپنایا۔ چونکہ پہلے روز ہر کوئی اپنی جان پہچان والے کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے انہوں نے ہر دوسری نشست پر بیٹھنے والے کو اپنی نشست سامنے بیٹھے شخص سے تبدیل کرنے کا کہا۔ یوں وہ ترتیب جو شرکاء کی مرضی سے بنی تھی بالکل تبدیل ہوگئی۔ اب انہوں نے ورکشاپ کے تمام شرکاء کو کہا کہ وہ اپنے تعارف اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے کروائیں اور پھر دونوں ایک دوسرے کے بارے میں باقی شرکاء کو بتائیں گے۔

مجھے ذاتی طور پر یہ طریقہ بہت پسند آیا۔ اس سے نہ صرف تمام شرکاء میں ہچکچاہٹ کا خاتمہ ہوا بلکہ ورکشاپ کا ماحول بھی خوشگوار ہوگیا۔ اسے حسن اتفاق کہیں کہ میرے ساتھ جو شخصیت بیٹھی، یعنی جس کا مجھے اور جس نے میرا تعارف کروانا تھا، وہ ہماری انسٹرکٹر سندس رشید ہی تھیں۔ پہلے میں نے ان سے کچھ سوالات کیے اور پھر انہوں نے میرے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ سندس رشید چونکہ ڈان گروپ کے سٹی ایف ایم 89 میں پروگرام منیجر ہیں، اس لیے میں نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ڈان نیوز (ٹی وی چینل) کی زبان انگریزی سے اردو کیوں ہوگئی؟ جواباً انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے خیال میں انگریزی کے برعکس اردو چینلز کو عوام میں زیادہ پزیرائی حاصل ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اردو کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔

میں نے سندس رشید کو اپنا تعارف بطور اردو بلاگر کروایا اور کرک نامہ سے اپنی وابستگی کے بارے میں بھی بتایا۔ کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے سوال پر میں نے انہیں پاک اردو انسٹالر کے متعلق بتایا کہ اب صرف ٹرانسلٹریشن یا انپیج نہیں بلکہ کسی بھی آپریٹنگ سسٹم کے کسی بھی سافٹ ویئر میں اردو براہ راست لکھی جاسکتی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے شرکاء کو میرا تعارف کرواتے ہوئے بھی کرک نامہ کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔

اس کے بعد سندس رشید نے سوشل میڈیا کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے، معلومات کی درست اور تیز تر فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صحافی اپنے فیس بک، ٹویٹر اکاؤنٹ اور بلاگ کے ذریعے اپنی ذاتی جدگانہ حیثیت بناسکتے ہیں جو مستقل میں ان کے کام آسکتی ہے، مثال کے طور پر کوئی صحافی بڑی محنت سے کوئی تحقیق، خبر یا کوئی ویڈیو پیکیج بناتا ہے، لیکن اس کا چینل کسی وجہ سے اسے نشر نہیں کرتا یا زیادہ اہمیت نہیں دیتا تو وہ اسے اپنے بلاگ پر با آسانی رکھ سکتا ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اکثر صحافی فیس بک سے تو واقف تھے لیکن ٹویٹر اور بلاگنگ کے بارے میں بہت کم جانتے تھے، اس لیے سب کو فیس بک، ٹویٹر، بلاگ اسپاٹ، پکاسا اور یوٹیوب پر اکاؤنٹ بنانے کا مکمل طریقہ بتایا گیا اور پھر ان کے فوائد و استعمال کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران انہوں نے میرا بلاگ بلاعنوان بھی شرکاء کو دکھایا۔ خوش قسمتی سے ان کے لیپ ٹاپ میں جمیل نوری نستعلیق موجود تھا، اس لیے بلاگ کافی اچھا نظر آیا۔ شاید سندس رشید کے ذہن میں اسے بطور نمونہ لے کر استعمال کرنے کا ارادہ ہوگا تاہم اس کے ڈاٹ کام ڈومین اور ورڈپریس پلیٹ فارم کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔ وہاں موجود چند ساتھیوں نے پاک اردو انسٹالر اپنے لیپ ٹاپ میں انسٹال کیا اور پھر اردو لکھی تو انہیں خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ جو کام انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے وہ تو حقیقت میں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

صحافی چاہے اخبار کے لیے کام کرتا ہو یا ٹیلی ویژن چینل کے لیے اس کا براہ راست تعلق خبر سے ہوتا ہے، اس لیے ورکشاپ میں خبر اور بلاگ میں مماثلت اور مختلف انداز مثلاً inverted pyramid، chronological اور narrative کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ اگلے روز 300 الفاظ کا بلاگ لکھنے کے اسائنمنٹ کے ساتھ ورکشاپ کا پہلا دن اختتام پزیر ہوا۔ ورکشاپ کے دوران میں نے بھی اپنے انگریزی بلاگ کی بنیاد رکھ ہی دی لیکن مجھے خود علم نہیں کہ آیا میں اس پر کب اور کتنا لکھ سکوں گا۔

کمروں میں چونکہ انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا تھا، اس لیے مچھروں اور دیگر اقسام کے کیڑے مکوڑوں کے باوجود وقت باہر گزارنا پڑا۔ شام کو کچھ دیر سستانے کے بعد سب مل کر چہل قدمی کے لیے نکلے لیکن عربین سی کنٹری کلب انتظامیہ کی طرف سے گالف کورس پر چلنے اور بیٹھنے پر پابندی کے باعث جلد ہی ہوٹل میں واپس آنا پڑا۔ کھانے سے قبل محبوب علی (جیو نیوز) نے صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس) سے اپنے علاقائی ڈانس کی فرمائش کی جو اس شرط پر پوری ہوئی کہ ورکشاپ کے دیگر شرکاء بھی کوئی گیت، غزل، لطیفہ سنائیں یا پھر ڈانس کریں۔

اس سلسلے کا آغاز میری ساتھی کولیگ شینا سومرو (پی پی ایف) کی گائیکی سے ہوا۔ پھر ہارون سراج (دی نیشن / ریڈیو پاکستان)، صفدر داوڑ (روزنامہ ایکسپریس)، محبوب علی (جیو نیوز)، عرفان اللہ (وائس آف امریکا)، وصی قریشی (انڈس ریڈیو)، شہزاد بلوچ (ایکسپریس ٹریبیون)، بلال فاروقی (روزنامہ آغاز)، راقم (پی پی ایف)، درشہوار چننا (پی پی ایف) اور اشرف الدین پیرزادہ (دی نیوز) کے بعد آخر میں سندس رشید نے بھی اس سلسلے میں حصہ لیا۔ پہلے تو میں نےاپنی باری آنے پر معذرت کرلی کہ مجھے سرے سے کوئی لطیفہ، نظم یا غزل یاد ہی نہیں جس پر مجھے 300 الفاظ (وہ بھی انگریزی میں) بلاگ لکھنے کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا سے بچنے کے لیے میں نے موبائل غزل 'کہانی درد کی میں زندگی سے کیا کہتا' ہی پیش کرنے میں خیر سمجھی۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کا وقت ہوگیا اور ہم کھانا کھا کر کمرے میں چلے گئے۔ لیکن مسئلہ وہی کہ کمرے میں انٹرنیٹ ہی موجود نہیں اور اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ اس وجہ سے کمرے سے باہر نکل کر اور ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کچھ اور ساتھی پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ وہاں بیٹھ کر مزید گپ شپ کی اور کچھ بلاگ اسائنمنٹ پر بھی کام کیا۔ اس دوران ہمارے ایک اور ساتھی عدنان رشید ہوٹل پہنچے جنہیں میرا روم میٹ بنا دیا گیا۔ عدنان رشید سے تعارف کے بعد ہم پھر بستر میں گھس گئے۔

(اگلا حصہ)

 متفرق