آپ پڑھ رہے ہیں: بلاعنوان » اقبال اور ہم

اقبال اور ہم

"میں علامہ اقبال سے ملنا چاہتا ہوں" یہ الفاظ سن کر میرے دوست کی ہنسی نکل گئی۔ گو کہ میں نے بات مکمل سنجیدگی سے کہی لیکن اس کے باوجود وہ اسے سن کر ہنستا ہی چلا گیا۔ شاید کوئی اور ہوتا تو اس کا بھی یہی حال ہوتا۔ آئسکریم پارلر میں ہم سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے دو چار لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بمشکل اپنی ہنسی کو ضبط کرتے ہوئے پوچھا "کیوں بھئی؟ آخر تم اقبال سے کیوں ملنا چاہتے ہو؟" میں نے جواب دیا "بچپن میں بہت سے رسالوں میں پڑھا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال جیسی شخصیات خوابوں میں آتی ہیں اور وہ ملاقات کرنے والے سے بات کرتے ہیں، انہیں نصیحت بھی کرتے ہیں"۔ "لیکن وہ صرف تصوراتی ملاقات ہوتی ہے" اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔ "ہاں! لیکن اس کے باوجود ہر سال 9 نومبر کو میری یہ خواہش تازہ جاتی ہے کہ کسی طرح میری اس عظیم شاعر سے ملاقات ہوجائے"۔ میری اس بات پر ایک بار پھر اس کی ہنسی نکل گئی۔

میں نے اسے گھورا، لیکن اثر نہ ہوتا دیکھ کر آہستگی سے کہا "میں سیریس ہوں یار!" یہ سن کر وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا اور مجھ سے پوچھا "اچھا، اگر بالفرض اقبال سے ملاقات ہو بھی گئی تو کیا کرو گے؟"۔ میں سوچنے لگا لیکن اس سے پہلے کہ میں جواب دیتا، وہ خود ہی بول پڑا "تم ایسا کرنا کہ اقبال کو ملک کی تاریخ اور حال احوال بتانا، پاکستان کے قیام سے لے کر اس کے دو لخت ہوجانے تک، جمہوری حکومتوں کی کرپشن سے لے کر فوجی حکومتوں کے مظالم تک، قوم پرستی سے لے کر مذہبی فرقہ واریت تک سب کچھ بتادینا، اور انہیں بھی اس ملک سے محبت رکھنے والے ہر شخص کی طرح رنجیدہ و افسردہ کردینا" اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔

پھر سنجیدہ لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوا "اقبال کو بتانا کہ جس وطن کا خواب آپ نے دیکھا وہ ہماری ناعاقبت اندیشیوں کی نظر ہوکر ٹوٹ گیا۔ یہ سن کر اگر اقبال تمہیں نصیحت کریں کہ 'سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا' تو انہیں بتانا کہ یہ اوصاف تو کب کے پچھلی نسلوں کے ساتھ ہی ناپید ہوگئے۔ تم انہیں کہنا کہ اے علامہ! جس وطن کو مذہب کا کفن قرار دیا، آج ہم اسی کی پرستش کررہے ہیں۔ ہمارے میدان، ہماری گلیاں، ہمارے ایوان سب وطن پرستی اور قوم پرستی کے نعروں سے گونج رہے ہیں، اگر یہ سن کر اقبال پریشان ہو کر تم سے کہیں کہ 'قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں' تو انہیں بتانا کہ اب یہاں مذہب پسندی جرم ٹہرا، قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت اب دہشت گردوں کے عناصر قرار پائے اور دینِ فکرِ غیور اب دینِ فکرِ مجبور بنا دیا گیا" وہ خلاف توقع بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا۔

اس نے دو گھڑی سانس لیا اور پھر دوبارہ کہا "علامہ صاحب کو آج کے 'اقبال ڈے' کا بھی ضرور بتانا۔ انہیں موسیقی کی دہنوں پر نظمیں پڑھنے والوں کا بھی بتانا۔ انہیں کہنا کہ اب ہم جیسے جوانوں کی خودی کھوچکی، ان کی عقابی روح بھی مردار ہوچکی، ان کی منزل آسمان نہیں عیش و عشرت ہے، آج کے محمود و ایاز ایک صف میں کھڑے نہیں ہوتے بلکہ نرم و گداز افرنگی صوفوں اور ایرانی قالینوں پر آرام فرماتے ہیں۔ انہیں بتانا کہ ہم میں ذوق یقیں باقی ہے اور نہ نگاہ مرد مومن، گر ہے تو بس اغیار کی غلامی جس سے نجات کی اسلامیوں میں قوت نہیں، چونکہ وہ ایک جمعیت نہیں، سو ملت بھی نہیں" یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر رکا اور پھر تھکے تھکے لہجے میں کہنے لگا "لیکن مجھے لگتا ہے کہ تم یہ سب باتیں کہہ بھی دو تو علامہ اقبال ہماری بے وفائی کی یہ داستان سن نہیں سکیں گے"۔ وہ خاموش ہوگیا اور میں جھکی ہوئی آنکھوں سے سامنے رکھے آئسکریم کپ کو دیکھنے لگا۔ جس میں موجود آئسکریم مجھے اپنی طرح شرم سے پانی پانی ہوتی محسوس ہورہی تھی۔

 معاشرہ

تبصرہ

”اقبال اور ہم“ پر 22 تبصرہ کیے گئے

ٹریک بیکس

  1. [...] This post was mentioned on Twitter by Muhammad Asad, Muhammad Asad. Muhammad Asad said: اقبال اور ہم http://nblo.gs/avwJq [...]



تبصرہ کریں

(ضروری ہے)

(ضروری ہے)